اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام میں دہشت گرد تنظیموں کے درمیان جھڑپوں میں شدت آنے کے بعد متعدد دہشت گردوں ترکی کی سرحدوں کی طرف فرار ہوگئے ہیں جن میں احرار الشام نامی دہشت گرد تنظیم کا ایک سینئر کمانڈر بھی شامل ہے۔ ادھر شام کے فوجی ذرائع نے حلب کے علاقے "الراشدین" میں "نورالدین زنگی یونٹس" نامی دہشت گرد تنظیم کے آپریشن کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ شام مخالف تنظیموں سے تعلق رکھنے والے "سیرین ہیومین رائٹس واچ" نامی ادارے نے کہا ہے کہ حلب شہر دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام" (داعش) نامی دہشت گرد تنظیم کے جنگجؤوں سے خالی ہوچکا ہے اور داعش کے اراکین دوسری تنظیموں سے لڑنے کے بعد اس شہر سے فرار ہوچکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حلب میں شکست کھانے کے بعد داعش نے دمشق کے نواح میں نام نہاد "آزاد شامی فوج" کےٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور شام مخالف اتحاد کے اراکین کو دھمکی دی ہے کہ وہ سب اس کے بعد داعش کے لئے جائز نشانے کے طور پر پہچانے جاتے ہیں اور موقع ملتے ہی ان کو نشانہ بنایا جائے گا۔ دریں اثناء مشرقی یورپ کے علاقے بلقان سے شام میں آکر دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے والے افراد، سرکاری افواج کی مسلسل کامیابیوں کے بعد اپنے ملکوں کی طرف لوٹنا شروع ہوچکے ہیں۔ باخبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دسمبر کے مہینے میں کوسووو کے 15، البانیہ کے 22 اور بوسنیا کے 19 باشندے ترکی کے راستے واپس جاچکے ہیں اور مزید افراد شام کو چھوڑ رہے ہیں۔ ادھر کوسووو کی جماعت اسلامی نے باضابطہ طور پر اپنے جنگجؤوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ شام کو چھوڑ کر اپنے وطن واپس آجائیں۔ واضح رہے کہ یورپی ممالک ان جنگجوؤں کی واپسی کے خلاف اور شام میں ان کی ہلاکت کے خواہاں ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
8 جنوری 2014 - 20:30
News ID: 494610
اطلاعات کے مطابق بعض مسلح گروہوں میں شامل دہشت گرد جھڑپوں میں شدت آنے کے بعد ترکی کی طرف فرار ہوگئے ہیں۔